← Archive
prose reflective

تجسس امید دیتا ہے، پھر ناامید کر دیتا ہے

شارون شہزاد کے ایک پسندیدہ بلاگ پوسٹ پر ذاتی reading note

تجسس امید دیتا ہے، پھر ناامید کر دیتا ہے

یہ میری پسندیدہ تحریروں میں سے ایک ہے۔

شارون شہزاد کی یہ تحریر میرے لیے صرف ایک کالم نہیں، بلکہ انسانی کیفیت کا ایک تاریک آئینہ ہے۔ اس میں تجسس کو ایک معصوم جذبے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھا گیا ہے جو پہلے انسان کو زندہ رکھتی ہے، پھر اسی زندگی کے اندر خالی جگہیں پیدا کر دیتی ہے۔

تجسس پہلے امید دیتا ہے۔

پھر جب پردہ اٹھتا ہے، شے عام ہو جاتی ہے۔ انسان عام ہو جاتا ہے۔ تعلق عام ہو جاتا ہے۔ وہ جادو جس کے سہارے ہم کسی کتاب، کسی شہر، کسی چہرے، کسی محبت یا کسی مستقبل کی طرف چلتے ہیں، اچانک ختم ہو جاتا ہے۔

اور پھر صرف عادت رہ جاتی ہے۔

یہ تحریر مجھے اس لیے haunt کرتی ہے کہ یہ تعلقات کو بہت سادہ مگر بے رحم ترتیب میں دیکھتی ہے: پہلے تجسس، پھر مروت، پھر قربت، اور آخر میں عادت۔ شاید سب سے زیادہ خوفناک چیز عادت ہی ہے، کیونکہ عادت میں محبت بھی قید ہو سکتی ہے اور بیزاری بھی۔

مجھے اس میں یہ بات سب سے زیادہ چبھتی ہے کہ انسان اکثر دوسرے انسان سے محبت نہیں کرتا؛ وہ پہلے اس کے بارے میں اپنا تخیل بناتا ہے۔ پھر جب اصل انسان اس تخیل سے مختلف نکلتا ہے تو تجسس ٹوٹ جاتا ہے۔ ہم تعلق ختم نہیں کرتے، بس اسے گھسیٹتے رہتے ہیں۔

ایک جملہ خاص طور پر ذہن میں رہتا ہے:

تجسس ہی ہے جو اول تو امید دیتا ہے اور پھر اسی امید کی تاریکی میں نا امید چھوڑ دیتا ہے۔

یہی اس تحریر کا مرکز ہے۔

زندگی شاید اسی تجسس پر کھڑی ہے۔ مذہب میں آخرت کا تجسس، محبت میں دوسرے انسان کا تجسس، بچپن میں جوانی کا تجسس، علم میں نامعلوم کا تجسس، اور تنہائی میں کسی جواب کا تجسس۔

لیکن جب زندگی کے کچھ حقائق سامنے آ جاتے ہیں تو ہر شے عارضی معلوم ہونے لگتی ہے: ہر تعلق، ہر انسان، ہر شوق، ہر موسم، ہر یقین۔

شاید بے حسی واقعی ایک برکت ہے۔

یا شاید یہ صرف وہ نام ہے جو ہم تھک جانے کے بعد اپنے دفاع کو دیتے ہیں۔

ذاتی نوٹ

میں اس تحریر کو اپنے Nearness archive میں اس لیے رکھ رہا ہوں کہ یہ مجھے یاد دلاتی ہے: ہر چیز کو جان لینے کی خواہش بھی ایک نشہ ہے۔ ہر پردہ اٹھانا ضروری نہیں۔ کچھ چیزیں شاید اپنے نامعلوم رہنے میں ہی خوبصورت ہوتی ہیں۔

اور کچھ تعلقات شاید اسی دن مر جاتے ہیں جس دن ان کے بارے میں ہمارا تجسس ختم ہو جاتا ہے۔

انتساب

اصل تحریر: “تجسس امید دیتا ہے اور پھر ناامید کر دیتا ہے”
مصنف: شارون شہزاد
اشاعت: ہم سب، 12/05/2020

یہ پوسٹ اصل مضمون کی نقل نہیں، بلکہ اس پر ذاتی reading note اور reflection ہے۔